بال بال
معنی
١ - ایک ایک رونگٹا، ہر ایک بال، سرتاپا۔ قلب عارف کی طرح روشن ہو جس کا بال بال جس کے جذبے ہوں قیامت کے سریع الاشتعال ( ١٩٣٣ء، فکر و نشاط، ١٠٠ ) ١ - بالکل، کلیۃ۔ پکے بالوں میں بھی خامی کا اثر ہے بال بال آدمی خاطی ہے پروردہ ہے کچے شیر کا ( ١٨٣٦ء، ریاض البحر، ١٠ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بال' کی تکرار سے اردو میں 'بال بال' مرکب بنتا ہے اور بطور اسم اور گاہے بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٣٢ء میں "پنچھی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔